اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے وزيراعظم حيدرالعبادي نے بھي کہا ہے کہ اربعين حسيني کے پروگرام کے لئے سيکورٹي کےانتہائي سخت انتظامات کئےگئےہيں - اس درميان عراق ميں موجودہ غير ملکي ميڈيا کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے جرائم اور ان کے خطرات کي پروا کئےبغيراربعين حسيني کے موقع پر دسيوں لاکھ غيرملکي زائرين کا سيلاب عراق پہنچنے پر، کربلا جانےوالے راستے عقيدت و محبت کے راستے ميں تبديل ہوگئےہيں –
ايک زائر نے اپنے تاثرات بيان کرتے ہوئے کہا کہ يہ راستہ امام حسين کا راستہ ہے - جو بہشت پر جاکر ختم ہوتا ہے –
ايک زائر نے انگريزي زبان ميں کہا کہ ہم کربلا جارہے ہيں يہ سوچ کر بہت خوشي محسوس ہورہي ہے –
ايک خاتون زائر نے کہا کہ ہم داعش کو يہ پيغام دينا چاہتے ہيں کہ وہ دھماکے اور دہشت گردي جو بھي کرنا چاہيں کرليں ليکن ہميں امام حسين تک پہنچنے سے نہيں روک سکتے –
ايک اورزائر نے کہا کہ ہم عالمي دہشت گردوں خاص طورپر داعش کو يہ بتا دينا چاہتے ہيں کہ ہم حسيني کسي دہشت گرد سے نہيں ڈرتے –
خبروں ميں بتايا جارہاہے کہ اربعين حسيني کي عزاداري کے پروگرام ميں کربلائے معلي ميں ہر سال زائرين کي تعداد پہلے کے مقابلے ميں کہيں زيادہ بڑھتي جارہي ہے –
اب تک پينتاليس لاکھ سے زائد غير ملکي زائرين دنيا کے گوشہ و کنار سے عراق اور کربلائےمعلي پہنچ چکے ہيں اور يہ سلسلہ اربعين تک جاري رہے گا –
عراقي حکومت نے اس کے لئے وسيع پيمانے پر سيکورٹي کےانتظامات کئے ہيں - اربعين کي اس اہميت کے پيش نظر عراق کے جنوبي صوبے بصرے کي ہے –
.......
/169